بے شک اللہ سینوں کے راز تک جاننے والا ہے۔

دو مختلف دنیاؤں کے درمیان پرورش 

میں ایک 44 سالہ خاتون ہوں جس کی شخصیت زندگی کے بے شمار تجربات سے تشکیل پائی ہے اور ان تجربات کی بنیاد ایک ایسے گھر میں رکھی گئی جہاں دو بالکل مختلف اقدار ایک ساتھ موجود تھیں۔ میرے والدین کا تعلق ایک ہی پٹھان نسل سے تھا، لیکن اس مشترکہ ثقافتی شناخت کے علاوہ ان کے خاندانی پس منظر میں کوئی خاص مماثلت نہیں تھی۔

ایک طرف میرے والد کا خاندان تھا روشن خیال، اعلیٰ تعلیم یافتہ،
 سماجی طور پر باشعور اور کھلے ذہن کا حامل۔ دوسری طرف میری والدہ کا خاندان تھا کم تعلیم یافتہ، قدامت پسند اور مذہبی روایات میں مضبوطی سے جڑا ہوا۔ بچپن میں ہم ایسے ماحول میں پروان چڑھے جہاں یہ دونوں دنیائیں اکثر ایک دوسرے سے ٹکراتی رہتی تھیں۔ دونوں طرف کے رشتہ دار ہمارے گھر آتے، اور ہر ایک اپنی توقعات، عقائد اور صحیح و غلط کی اپنی تعریف ساتھ لاتا۔ ایسے ماحول میں پلنے والے بچوں کے لیے الجھن ایک خاموش ساتھی بن جاتی ہے۔ آپ مسلسل متضاد پیغامات جذب کر رہے ہوتے ہیں اخلاقیات، دین، ثقافت، شناخت اور سماجی رویوں کے بارے میں۔ تاہم وقت کے ساتھ اور شعور کی پختگی کے ساتھ یہی بچے آہستہ آہستہ رہنمائی اور کنٹرول میں فرق کرنا سیکھ جاتے ہیں۔

میرے بچپن کے سب سے تکلیف دہ پہلوؤں میں سے ایک صرف ان
 اختلافات کو سمجھنا نہیں تھا بلکہ ہمارے خاندانوں کی طرف سے ہماری پرورش کے بارے میں مسلسل تبصرے اور مداخلت کو برداشت کرنا بھی تھا۔ ہمارے والدین کو یہ بتایا جاتا تھا کہ بچوں کی تربیت کیسے ہونی چاہیے۔ اس حد تک غیر ضروری رائے دی جاتی تھی کہ ہم ذہنی طور پر ہر وقت دفاعی حالت میں رہتے تھے۔ ہم ہمیشہ جواب دینے کی تیاری میں رہتے، اپنی وضاحتیں سوچتے، اور ہر لمحہ کسی سوال یا اعتراض کے لیے تیار رہتے تھے۔

اللہ تعالیٰ قرآن میں ایسے رویوں سے خبردار کرتے ہیں:
"اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچو، یقیناً بعض گمان گناہ ہوتے ہیں، اور نہ جاسوسی کرو اور نہ ایک دوسرے کی غیبت کرو
۔" (سورۃ الحجرات 49:12)

میری والدہ اپنے خاندان کی سب سے بڑی بیٹی تھیں اور ایک جدید سوچ رکھنے والے گھرانے میں بیاہی گئی تھیں۔ ہم ان کے بچوں کی حیثیت سے اپنے ننھیال میں پہلے کزنز تھے گویا ہماری پرورش دونوں خاندانوں کے لیے ایک مثال یا تجربہ بن گئی تھی۔ آہستہ آہستہ ایسا محسوس ہونے لگا جیسے ہماری تربیت کا اختیار ہمارے والدین سے زیادہ ہمارے رشتہ داروں کے ہاتھ میں آ گیا ہو۔ ہماری زندگی کے ہر پہلو پر رائے دی جاتی تھی ہم کیسے بات کریں، کیسے بیٹھیں، کہاں جائیں، کس سے ملیں اور کیا پہنیں۔ اس وقت یہ معمول سمجھا جاتا تھا کہ والدین اپنے خاندانوں کی رائے سے بہت زیادہ متاثر ہوں۔ اسی دباؤ کے تحت وہ توقعات ہم پر بھی مسلط کی جاتیں۔

مجھے آج بھی یاد ہے کہ میری والدہ کے خاندان کے مرد حضرات اکثر ہمارے والد کی نسبتاً روشن خیال اور کم سخت مذہبی اندازِ تربیت پر تنقید کرتے تھے۔ ہمارے لباس پر اعتراض کیا جاتا، اور میری والدہ کو مشورہ دیا جاتا کہ وہ ہمیں صرف دوپٹہ نہیں بلکہ چادر اوڑھنے کی عادت ڈالیں۔ ہمارا باہر جانا، کزنز سے ملنا یا گلی میں لڑکوں اور لڑکیوں کے ساتھ کھیلنا بھی موضوعِ بحث بن جاتا۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "اے ایمان والو! انصاف پر مضبوطی سے قائم رہو، اللہ کے لیے گواہی دیتے ہوئے، خواہ وہ خود تمہارے خلاف ہو یا والدین اور قریبی رشتہ داروں کے خلاف۔"
(سورۃ النساء 4:135)


کئی بار ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے ہم پر نظر رکھی جا رہی ہو ہماری حرکات و سکنات کی نگرانی کی جاتی اور پھر سرگوشیوں اور غیبت کے ذریعے ہماری والدہ تک باتیں پہنچائی جاتیں۔ دین کے نام پر ہمیں ایسے انداز میں سمجھایا جاتا جس سے خوف پیدا ہوتا، نہ کہ شعور۔
قرآن واضح طور پر غیبت کی مذمت کرتا ہے: "اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے، کیا تم میں سے کوئی پسند کرے گا کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے؟"  (سورۃ الحجرات 49:12)

وقت گزرتا گیا، سب اپنی زندگیوں میں مصروف ہو گئے۔ بظاہر سب کچھ معمول پر آ گیا، لیکن یادیں ذہن کے کسی کونے میں محفوظ رہتی ہیں اور ایک دن اچانک واپس آ جاتی ہیں۔ وہ لمحہ تب آتا ہے جب آپ انہی خاندانوں کو وہ سب کچھ کرتے دیکھتے ہیں جس پر کبھی آپ کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔ وہی لوگ جو کبھی ہمارے بارے میں سرگوشیاں کرتے تھے، آج خاموشی سے اپنی اولاد کو وہی یا اس سے بھی زیادہ آزاد طرزِ زندگی اختیار کرتے دیکھ رہے ہیں۔

ایسے موقع پر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان یاد آتا ہے: "کیا تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو اور اپنے آپ کو بھول جاتے ہو؟ حالانکہ تم کتاب پڑھتے ہو، کیا تم عقل نہیں رکھتے؟" (سورۃ البقرہ 2:44)
اور مزید فرمایا: "اے ایمان والو! تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو؟ اللہ کے نزدیک یہ بہت ناپسندیدہ بات ہے کہ تم وہ کہو جو خود نہ کرو۔" (سورۃ الصف 61:2-3)

وہ چیزیں جو کبھی تنقید کا سبب تھیں، آج معمول بن چکی ہیں۔ فیشن کے رجحانات، میل جول، اور شادیوں میں رقص اب اخلاقی مسئلہ نہیں بلکہ ایک عام سماجی رویہ سمجھا جاتا ہے۔ ایسے میں انسان سمجھتا ہے کہ وقت تضادات کو بے نقاب کر دیتا ہے۔

قرآن ہمیں یاد دلاتا ہے: "پس جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا، اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہوگی وہ بھی اسے دیکھ لے گا۔" (سورۃ الزلزال 99:7-8)

ہم جو الفاظ بولتے ہیں یا فیصلے سناتے ہیں، وہ وقتی طور پر بھولے جا سکتے ہیں لیکن ہمارے اعمال باقی رہتے ہیں: "اور اعمال نامہ سامنے رکھ دیا جائے گا تو تم مجرموں کو دیکھو گے کہ وہ اس میں درج چیزوں سے ڈر رہے ہوں گے۔" (سورۃ الکہف 18:49)

بے شک ایک ایسی ہستی موجود ہے جو ہمارے دلوں کے ارادوں کو جانتی ہے: "بے شک اللہ سینوں کے راز تک جاننے والا ہے۔" (سورۃ الملک 67:13)

زندگی بعض اوقات وہ سبق سکھا دیتی ہے جو دلیلیں نہیں سکھا سکتیں—اور انصاف خاموشی سے اپنا راستہ بنا لیتا ہے۔



Comments

Popular posts from this blog

Baghicha Dheri

The Shifting Sands of Parenthood in Pakistan: Are We Raising Entitled Children?

Dearest Young Girls ❤️