A FATHER
جوانی میں انسان باپ کو شک کی نگاہ سے دیکھتا رہتا ہے ، جیسے باپ کو ہمارے مسائل ، تکلیفوں یا ضرورتوں کا احساس ہی نہیں ، یہ نئے دور کے تقاضوں کو نہیں سمجھتا . کبھی کبھی ہم اپنے باپ کا موازنہ بھی کرنا شروع کر دیتے ہیں ، " اتنی محنت ہمارے باپ نے کی ہوتی ، بچت کی ہوتی ،کچھ بنایا ہوتا تو آج ہم بھی ...فلاں کی طرح عالیشان گھر ، گاڑی میں گھوم رہے ہوتے " " کہاں ہو ؟ کب آؤ گے ؟ زیادہ دیر نہ کرنا " جیسے سوالات انتہائی فضول اور فالتو سے لگتے ہیں . " سویٹر تو پہنا ہے کچھ اور بھی پہن لو سردی بہت ہے " انسان سوچتا ہے کہ اولڈ فیشن کی وجہ سے والد کو باہر کی دنیا کا اندازہ نہیں . اکثر اولادیں اپنے باپ کو ایک ہی معیار پر پرکھتی ہیں، گھر ، گاڑی، پلاٹ ، بینک بیلنس ، کاروبار اور اپنی ناکامیوں کو باپ کے کھاتے میں ڈال کر خود سرخرو ہو جاتے ہیں " ہمارے پاس بھی کچھ ہوتا تو اچھےاسکول میں پڑھتے، کاروبار کرتے " اس میں شک نہیں ، اولاد کے لئے آئیڈیل بھی انکا باپ ہی ہوتا ہے لیکن کچھ باتیں جوانی میں سمجھ نہیں آتیں یا ہم سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے ،اسلئے کہ ہمارے سامنے وقت کی ضرورت ...