جب ہم میں سے کوئی آگے بڑھتا ہے تو ہمیں تکلیف کیوں ہوتی ہے؟


کل میری نظر ایک مضمون پر پڑی جس میں ایک سادہ سی بیٹھنے والی بنچ کا ذکر تھا، جسے ایک فلاحی تنظیم نے عوامی استعمال کے لیے نصب کیا تھا۔ اس کا مقصد کمیونٹی کی دیکھ بھال کا ایک چھوٹا سا عملی اظہار تھا. ایک ایسی جگہ جہاں بزرگ کچھ دیر آرام کر سکیں، پیدل چلنے والے لمحہ بھر کے لیے بیٹھ سکیں، یا کوئی سواری کا انتظار کرتے ہوئے سکون محسوس کر سکے۔ مگر دل توڑ دینے والی بات یہ تھی کہ اگلے ہی دن وہی بنچ اکھاڑ کر کچرے میں پھینکا  گیا. جتنا یہ عمل تکلیف دہ تھا، اس سے کہیں زیادہ صدمہ مجھے اس پوسٹ کے نیچے عوامی تبصرے پڑھ کر ہوا۔ افسوس یا تشویش کے بجائے، بہت سے ردِعمل طنز، الزام تراشی، مذاق اور یہاں تک کہ خوشی سے بھرے ہوئے تھے۔ لوگ یہ پوچھنے کے بجائے کہ ایسا کیوں ہوا اور آئندہ اسے کیسے روکا جا سکتا ہے، اسی کوشش کا مذاق اڑا رہے تھے۔

بطور پاکستانی، ایک تلخ حقیقت جسے ہم اکثر تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں، یہ ہے کہ ہماری بہت سی بڑی رکاوٹیں بیرونی نہیں بلکہ اندرونی ہیں۔ بعض اوقات ہمیں پیچھے کھینچنے والے ہاتھ اجنبیوں کے نہیں بلکہ ہمارے اپنے رشتہ داروں، ساتھیوں، پڑوسیوں، کمیونٹی اور حتیٰ کہ دوستوں کے ہوتے ہیں۔ ہماری ثقافت میں جیسے ہی کوئی شخص تعلیم، کاروبار، شادی، ہجرت یا مالی استحکام کے ذریعے آگے بڑھنے لگتا ہے، اس کے گرد ایک خاموش بے چینی پھیلنا شروع ہو جاتی ہے۔ اجتماعی فخر کے بجائے سرگوشیاں شروع ہو جاتی ہیں:

💥 “اس کا کاروبار کیسے چل گیا؟”

💥 “اتنی جلدی پروموشن مل گئی؟”

💥 “بیرونِ ملک کا ویزا لگ گیا؟ ضرور کوئی سورس ہوگا۔”

💥 “اچھے گھر میں شادی ہو گئی؟ قسمت دیکھو۔”

کسی کی ترقی کا جشن منانے کے بجائے، ہم اس کا تجزیہ شروع کر دیتے ہیں۔

ٹانگ کھینچنے کی ثقافت

💥 ایک نوجوان اپنی محنت سے نوکری حاصل کرتا ہے۔ حوصلہ افزائی کے بجائے کہا جاتا ہے: “دیکھتے ہیں کتنے دن ٹکتا ہے۔”

💥 کوئی رشتہ دار کاروبار شروع کرتا ہے۔ گاہک بننے کے بجائے دوسروں کو خبردار کیا جاتا ہے: “اس کا مال مہنگا ہے۔” “اس پر اعتماد مت کرنا۔”

💥 ایک لڑکی تعلیمی میدان میں نمایاں کارکردگی دکھاتی ہے۔ تعریف کے بجائے کہا جاتا ہے: “زیادہ پڑھ لکھ کر کرے گی کیا؟ آخر گھر ہی تو سنبھالنا ہے۔”

💥 ایک لڑکا برسوں کی جدوجہد کے بعد بیرونِ ملک سے گھر پیسے بھیجتا ہے۔ دعاؤں کے بجائے سننے کو ملتا ہے: “ڈالر بھیج رہا ہے تو وہاں مزے میں ہوگا۔” “حرام کماتا ہوگا۔” “اس کے مال میں سود ہوگا۔”

کبھی کبھار یہ ٹانگ کھینچنا بہت باریک صورت میں سامنے آتا ہے:

• کسی کو موقع ملنے پر اس کی سفارش نہ کرنا۔

• مفید معلومات چھپا لینا۔

• “حقیقت پسندانہ مشورے” کے نام پر حوصلہ شکنی کرنا۔

• دوسروں سے منفی موازنہ کرنا۔

• افواہیں پھیلا کر ساکھ کو نقصان پہنچانا۔

یہ سب ایک گہری جڑ سے جنم لیتا ہے حسد۔

حسد: ایک روحانی بیماری

قرآنِ مجید ہمیں کھلے الفاظ میں حسد سے خبردار کرتا ہے کیونکہ یہ حسد کرنے والے اور جس سے حسد کیا جائے، دونوں کو تباہ کر دیتا ہے۔حسد صرف کسی کی کامیابی کو ناپسند کرنا نہیں، بلکہ یہ خواہش کرنا ہے کہ اس سے وہ نعمت چھن جائے۔ اور کبھی یہ حسد اتنا شدید ہو جاتا ہے کہ خاموش نفرت اور بدنیتی میں بدل جاتا ہے

سورۃ النساء (4:54):

“کیا وہ لوگوں سے اس چیز پر حسد کرتے ہیں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے عطا کی ہے؟”۔

تمسخر، غیبت اور سماجی تخریب کاری

ہماری بہت سی محفلوں میں ہم کسی کی ناکامی پر ہنستے ہیں۔ کسی کی ازدواجی مشکلات پر غیبت کرتے ہیں۔ کسی کی کامیابی کے پیچھے بدعنوانی فرض کر لیتے ہیں۔ غلطیوں کو چھپانے کے بجائے نمایاں کرنے میں لطف لیتے ہیں۔

منافق وہ ہے جو سامنے مسکراہٹ رکھے اور پیچھے تمہارے لیے گڑھے کھودتا رہے۔ چال باز وہ ہے جو دوستیوں اور رشتوں میں نفرت کے بیج بو کر اپنا قد بڑا کرتا ہے۔ دھوکے باز وہ ہے جو ہاتھ ملائے تو نرم لگے، مگر نیت میں زہر رکھے۔ کمینہ وہ ہے جو بہن بیٹی کے رشتوں کو کھیل بنا دے اور دوسروں کے گھروں میں آگ لگا کر تماشا دیکھے۔

جو دوسروں کی بہن بیٹی کے رشتے رکوا دے، وہ انسان نہیں بلکہ زہریلا سایہ ہوتا ہے۔ ناصرف ادھر کی باتیں ادھر اور ادھربلکہ ہر بات کے ساتھ تین باتیں اضافی بھی کرنے والا “دو دوستوں میں نفرت ڈالنے والا ، دو بہن بھائیوں میں نفرت بھرنے والا ، رشتوں کو توڑنے والے کی مثال ایک کانٹے دار چھاڑی جیسی ہوتی ہے، جو خود سیدھا نہیں ہوتا مگر دوسروں کو زخمی کرتا رہتا ہے۔ جو بلا ثبوت بدگمانی پیدا کرنے والا اپنا ٹوٹا ضمیر دوسروں کے کردار پر ڈال کر چھپاتا ہے۔

ساتھ رہ کر لوگوں کو ایک دوسرے کے خلاف کرنے والا خطرناک دشمن سے بھی بدتر دشمن ہوتا ہے . کمزوریاں ڈھونڈنے والا دراصل اپنی گندی نیت چھپانے کے لیے دوسروں میں خامیاں تلاش کرتا ہے۔ دوسروں کی زندگی میں بلاوجہ جھانکنے والا اور دوور بیٹھ کر دوسروں کے گھروں کی خبریں رکھنے اور دینے والا دونوں ہی ایک خالی اور بیمار ذہن کی طرح ہوتے دراصل نفسیاتی مریض ہوتے ہیں جن کے پاس اپنا کوئی کام نہیں ہوتا۔

چسکے لے کر بات نکالنے والا وہ بچھو ہے جو خوشی دیکھ کر بھی ڈنگ مارنے سے باز نہیں آتا۔ جب کام پڑ جائے تو ‘ باجی باجی ۔۔ بھائی بھائی ، بہن بہن ، اور بیٹا بیٹا بن جاتے ہیں، اور جب کام نکل جائے تو سلام تک کرنا بھول جاتے ہیں ،ایسے لوگ رشتے نہیں، صرف ضرورتیں نبھاتے ہیں۔اور انسانوں کو ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرنے والے غلیظ لوگ ہوتے ہیں۔۔۔

اللہ تعالیٰ نے اس رویے سے سختی سے منع فرمایا ہے:

سورۃ الحجرات (49:11): “کوئی قوم دوسری قوم کا مذاق نہ اڑائے، ممکن ہے وہ ان سے بہتر ہوں۔”

سورۃ الحجرات (49:12): “…ایک دوسرے کی ٹوہ میں نہ لگو اور نہ ایک دوسرے کی غیبت کرو۔ کیا تم میں سے کوئی پسند کرے گا کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے؟”

لیکن روزمرہ زندگی میں کسی کی طلاق چائے کے وقت کی گفتگو بن جاتی ہے۔ کسی کا مالی نقصان تفریح بن جاتا ہے۔ کسی کے بچے کی ناکامی موازنہ کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ کسی کی موجودہ کامیابی اس کے ماضی کو کھنگالنے کا بہانہ بن جاتی ہے۔

بہن بھائیوں کے درمیان حسد:

بدقسمتی سے یہ ذہنیت صرف معاشرے تک محدود نہیں بلکہ ہمارے ذاتی رشتوں میں بھی اتنی گہرائی تک سرایت کر چکی ہے کہ بعض اوقات سب سے زیادہ حسد بہن بھائیوں کے درمیان پایا جاتا ہے۔ جو لوگ ایک ہی چھت کے نیچے پلتے ہیں، ایک ہی والدین کے ساتھ بڑے ہوتے ہیں، ایک ہی دسترخوان سے کھاتے ہیں، وہی بڑے ہو کر خاموش حریف بن جاتے ہیں۔

• اگر ایک بھائی زیادہ کمانے لگے تو دوسرا فخر کرنے کے بجائے خطرہ محسوس کرنے لگتا ہے: دیکھتے ہیں کتنی دیر چلتا ہے یہ کاروبار۔ یہ چالاکی مجھے نہیں آتی، حرام کماتا ہوگا۔

• اگر ایک بہن بہتر مالی یا تعلیمی پس منظر والے گھر میں شادی کر لے تو دوسری بہن اندرونی بے چینی کا شکار ہو جاتی ہے: میں اس سے بہتر تھی، پھر کیوں نہیں مجھے؟ شو آف کرتی ہے، پیسے کا دکھاوا ہے۔

• جب والدین کسی ایک بچے کی کامیابی کی تعریف کرتے ہیں تو باقی اسے جانبداری سمجھ لیتے ہیں، جو آہستہ آہستہ رنجش میں بدل جاتی ہے۔

یہ صرف جذبات تک محدود نہیں رہتا بلکہ رویے میں ظاہر ہونے لگتا ہے:

• کاروباری مشورے کے نام پر حوصلہ شکنی: مارکیٹ بہت ڈاؤن ہے، رسک مت لو۔ یہ تمہارے بس کی بات نہیں۔

• نوکری، امیگریشن یا سرمایہ کاری کے مواقع کی معلومات چھپا لینا۔

• بہن بھائی اور ان کے شریکِ حیات کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنا۔

• بھائی کو بہن کی مالی خودمختاری سے بے چینی ہونا۔

• بہن کو بھائی کی بیوی کے بہتر معیارِ زندگی سے خلش ہونا۔ 

🙏ماں باپ کے دلوں میں بدگمانی کا بیج بونا۔ خاموش موازنہ مقابلے میں بدلتا ہے، مقابلہ عدم تحفظ میں، اور بالآخر چھپی ہوئی دشمنی میں جو خاندانی تقریبات میں مسکراہٹوں کے پیچھے چھپ جاتی ہے۔ جب بدنیتی عمل بن جائے. حسد ہمیشہ دل تک محدود نہیں رہتا۔ کبھی یہ عمل میں ڈھل جاتا ہے:

• جان بوجھ کر غلط مشورہ دینا۔

• کسی کا رشتہ رکوانا۔

• میاں بیوی کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنا۔

• کاروباری شراکت داری میں تنازع پیدا کرنا۔

• کیریئر کے انتخاب میں گمراہ کرنا۔

• کسی کو تنہا کر کے اس کی ساکھ کو نقصان پہنچانا۔

سورۃ الفلق (113:5): “اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے۔”

اسلام ہمیں اس کے بالکل برعکس سوچ سکھاتا ہے:

سورۃ المائدہ (5:2): “…نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے سے تعاون کرو…”

سوچیے اگر:

• رشتہ دار ایک دوسرے کے کاروبار کو فروغ دیں۔

• دوست سچے دل سے ایک دوسرے کی ترقی کا ساتھ دیں۔

• خاندان کامیابی پر شک کرنے کے بجائے دعا کریں۔

• کمیونٹیز معلومات چھپانے کے بجائے بانٹیں۔

ہماری اجتماعی ترقی کئی گنا بڑھ سکتی ہے — مگر یہ اسی وقت ممکن ہے جب ہم اللہ کی تقسیم اور اپنے نصیب کو قبول کریں۔ اللہ کی مرضی کے بغیر زندگی میں کچھ بھی ممکن نہیں۔ اس کے لیے اپنے رب پر مضبوط یقین اور اس کے منصوبوں پر رضامندی ضروری ہے۔ المیہ یہ نہیں کہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ٹیلنٹ کو اپنے ہی لوگوں کی حمایت میسر نہیں۔

جب تک ہم:

• موازنہ کو ہمدردی سے،

• حسد کو شکرگزاری سے،

• ٹانگ کھینچنے کو مخلص تعاون سے تبدیل نہیں کریں گے،

ہم اجتماعی کامیابی کی امید رکھتے ہوئے بھی ایک دوسرے کے خلاف برسرِ پیکار رہیں گے۔ اور شاید اصل سوال یہ نہیں کہ: “ہم بطور قوم ترقی کیوں نہیں کر رہے؟” بلکہ سوال یہ ہے کہ:

جب ہم میں سے کوئی آگے بڑھتا ہے تو ہمیں تکلیف کیوں ہوتی ہے؟


Comments

Popular posts from this blog

Baghicha Dheri

The Shifting Sands of Parenthood in Pakistan: Are We Raising Entitled Children?

Dearest Young Girls ❤️