The Struggle to Listen: Understanding the Unhealed Wounds in Relationships.

Many men struggle to truly listen to their partners without feeling triggered. This response isn’t rooted in a lack of care but often stems from unresolved childhood trauma.

This is how they learned to communicate. It mirrors the way their fathers spoke to their mothers and reflects the only family language they know.

In their relationships, they may seek to control—not from a place of strength, but from fear. Fear of feeling inadequate. Fear of losing power. Fear of being perceived as weak.

As a result, he may raise his voice, slam doors, avoid eye contact, and blame her sensitivity for his turmoil. He punishes her words with silence and reacts with anger and defensiveness, ultimately projecting his unstable emotions onto her.

This dynamic isn’t love; it’s inherited pain. It's generational rage surfacing in modern relationships.

In contrast, women often communicate with a deep longing. They don’t want conflict; they seek understanding. They desire to be heard without facing attack, to be met rather than managed.

However, he often misinterprets her intentions. He perceives criticism where there is care, and disrespect where there is desire. No one taught him how to remain calm and regulated in love. He doesn’t realize that a woman’s truth is not an assault; it’s a heartfelt plea.

A conscious man understands that he doesn’t need to dominate. He knows how to respond rather than react, to listen even when it’s challenging, and to hold space for her emotions, recognizing that a woman’s voice is sacred—not something to fear.

Until he embarks on this inner journey of healing, he will continue to echo the patterns of his father, mistaking control for connection. In doing so, he risks losing the very woman who came to love him wholeheartedly.

A woman cannot diminish herself to fit within a wounded man’s comfort zone. She was not meant to be silent while her spirit suffocates. She may try, cry, and endure longer than she should, but eventually, her spirit will withdraw even if her body remains.

If he fails to awaken to this reality, he will find himself wondering why her laughter has faded, why her eyes no longer shine. He will question what happened to the woman who once flourished under his touch, only to realize that she didn’t change—he simply never learned how to truly receive her.


اکثر مرد حضرات اپنی شریک حیات کی باتوں کو توجہ سے سننے سے قاصر رہتے ہیں اور جلد ہی مشتعل ہو جاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ وہ پرواہ نہیں کرتے، بلکہ اکثر ان کے بچپن کے حل نہ ہونے والے صدمات ہوتے ہیں۔

یہ وہ طریقہ ہے جس سے ان سے بات کی جاتی تھی۔ یہ ان کے والد کا اپنی والدہ سے بات کرنے کا انداز تھا، اور یہ وہ خاندانی زبان ہے جس سے وہ واقف ہیں۔

وہ اپنی شریک حیات پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ یہ کنٹرول طاقت کی بنیاد پر نہیں بلکہ خوف کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ یہ خود کو کمزور محسوس کرنے کا خوف، طاقت کھونے کا خوف، اور کمزور نظر آنے کا خوف ہوتا ہے۔

نتیجتاً، وہ اپنی آواز بلند کرتے ہیں، دروازے پٹختے ہیں، آنکھیں چرانے لگتے ہیں، اور اپنی بے چینی کا ذمہ دار ان کی شریک حیات کی نرمی کو ٹھہراتے ہیں۔ وہ خاموشی سے اس کے الفاظ کو سزا دیتے ہیں اور غصے اور دفاعی رویے سے اس کا دل توڑتے ہیں اور پھر اپنی  جذبات کا ذمہ دار بھی اسی کو ٹھہراتے ہیں۔

یہ محبت نہیں ہے، یہ ورثے میں ملا ہوا درد ہے۔ یہ ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل ہونے والا غصہ ہے جو آج کے جدید تعلقات میں اپنی جگہ تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اس کے برعکس، خواتین اکثر گہری چاہت کے ساتھ بات کرتی ہیں۔ وہ لڑائی نہیں چاہتیں، وہ سمجھنا چاہتی ہیں۔ وہ چاہتی ہیں کہ ان پر حملہ کیے بغیر ان کی بات سنی جائے، ان کو سنبھالنے کی بجائے ان سے ملا جائے۔

لیکن مرد اکثر ان کے ارادوں کو غلط سمجھتے ہیں۔ وہ دیکھ بھال کی جگہ تنقید اور خواہش کی جگہ بے عزتی محسوس کرتے ہیں۔ کسی نے انہیں نہیں سکھایا کہ محبت میں کس طرح پرسکون رہا جائے۔ وہ یہ نہیں سمجھتے کہ عورت کی سچائی حملہ نہیں ہے، بلکہ ایک دلی التجا ہے۔

ایک باشعور مرد یہ سمجھتا ہے کہ اسے تسلط جمانے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ رد عمل ظاہر کرنے کی بجائے جواب دینا جانتا ہے۔ وہ مشکل وقت میں بھی سنتا ہے، اور اس کے جذبات کے لیے جگہ پیدا کرتا ہے، یہ سمجھتے ہوئے کہ عورت کی آواز مقدس ہے، نہ کہ خوفناک۔

جب تک وہ خود کو ٹھیک نہیں کرتا، وہ اپنے والد کے انداز کو دہراتا رہے گا، کنٹرول کو تعلق سمجھتا رہے گا۔ ایسا کرنے سے، وہ اس عورت کو کھونے کا خطرہ مول لیتا ہے جو اس سے پورے دل سے محبت کرنے آئی تھی۔

ایک عورت خود کو کسی زخمی مرد کے کمفرٹ زون میں فٹ ہونے کے لیے نہیں سکڑ سکتی۔ وہ اس لیے پیدا نہیں ہوئی کہ جب اس کی روح گھٹ رہی ہو تو وہ خاموش رہے۔ وہ کوشش کرے گی، روئے گی، اور اپنی ضرورت سے زیادہ دیر تک انتظار کرے گی۔

لیکن آخر کار، اس کی روح اس کمرے سے نکل جائے گی چاہے اس کا جسم وہیں رہے۔

اگر وہ اس حقیقت کو نہیں سمجھتا، تو وہ حیران ہوگا کہ اس کی ہنسی کیوں ماند پڑ گئی، اس کی آنکھوں نے چمکنا کیوں چھوڑ دیا۔ وہ سوال کرے گا کہ اس عورت کو کیا ہوا جو کبھی اس کے لمس سے کھل اٹھتی تھی، اور اسے احساس ہوگا کہ وہ بدلی نہیں، اس نے تو کبھی اسے قبول کرنا سیکھا ہی نہیں تھا۔ 

Comments

Popular posts from this blog

Baghicha Dheri

The Shifting Sands of Parenthood in Pakistan: Are We Raising Entitled Children?

Dearest Young Girls ❤️