اولاد کے درمیان انصاف اور برابری
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے "اور اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے کہ تم اپنی اولاد کے ساتھ انصاف کرو۔" (سورۃ النساء، آیت 135)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "تمہاری اولاد کے حقوق میں تمہیں ان کے ساتھ برابری سے پیش آنا چاہئے۔"
"ماں باپ کو اپنی اولاد میں برابری سے پیش آنا چاہئے، تاکہ ان کے درمیان کوئی اختلاف نہ ہو۔"
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "تمہاری اولاد میں انصاف نہ کرنے والا، قیامت کے دن میرے سامنے اپنے اعمال کے بارے میں جوابدہ ہوگا۔"
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "جس شخص نے اپنی اولاد میں امتیاز کیا، اس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری ہے۔"
سورۃ النساء، آیت 36: "اور اللہ کی عبادت کرو، اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو، اور والدین، رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، قریب کے دوست اور دور کے دوست، ساتھی، مسافر اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ بھلائی سے پیش آؤ۔"
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: "ایک والد اپنے بچے کو جو کچھ دیتا ہے، اس میں سب سے بہتر چیز اس کی تعلیم ہے۔"
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ نے والدین پر اپنی اولاد کے ساتھ انصاف کا حکم دیا ہے، اور جو شخص اس میں کمی کرے، وہ اللہ کی نافرمانی کرتا ہے۔"
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "جو شخص اپنی اولاد کے ساتھ انصاف نہیں کرتا، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔"
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: "والدین کا اپنے بچوں پر حق ہے، اور بچوں کا اپنے والدین پر حق ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی تربیت کے لیے بہترین کوشش کریں۔"
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: "جو والدین اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت میں غفلت برتتے ہیں، وہ اللہ کے نزدیک برے ہیں۔"
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: "رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 'تمہاری اولاد تمہاری جنت یا دوزخ ہے۔'"
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: "رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 'جو شخص اپنی اولاد کی تربیت میں لاپرواہی برتتا ہے، وہ اللہ کی نافرمانی کرتا ہے۔'"
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "اور اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے کہ تم اپنی اولاد کے ساتھ انصاف کرو۔" (سورۃ النساء، آیت 135)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: 'تمہاری اولاد کے حقوق میں تمہیں ان کے ساتھ برابری سے پیش آنا چاہئے۔'"
حدیث میں ایک اور موقع پر نبی ﷺ نے فرمایا: "ماں باپ کو اپنی اولاد میں برابری سے پیش آنا چاہئے، تاکہ ان کے درمیان کوئی اختلاف نہ ہو۔"
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "تمہاری اولاد میں انصاف نہ کرنے والا، قیامت کے دن میرے سامنے اپنے اعمال کے بارے میں جوابدہ ہوگا۔"
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "جس شخص نے اپنی اولاد میں امتیاز کیا، اس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری ہے۔"
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "جو شخص اپنی اولاد کے ساتھ انصاف نہیں کرتا، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔"
یہ احادیث واضح کرتی ہیں کہ اولاد میں امتیاز کرنے سے نہ صرف والدین کا اپنے بچوں کے ساتھ تعلق متاثر ہوتا ہے، بلکہ یہ عمل اللہ کی رحمت سے بھی محرومی کا باعث بن سکتا ہے۔ اس لیے والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کے ساتھ انصاف کریں اور ان کے درمیان محبت اور برابری کو فروغ دیں۔ اولاد میں امتیاز کرنے سے نہ صرف والدین کا اپنے بچوں کے ساتھ تعلق متاثر ہوتا ہے، بلکہ یہ عمل اللہ کی رحمت سے بھی محرومی کا باعث بن سکتا ہے۔ اس لیے والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کے ساتھ انصاف کریں اور ان کے درمیان محبت اور برابری کو فروغ دیں۔
ہوتا ہے۔
والدین کی ذمہ داریاں
محبت اور توجہ: والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی تمام اولاد کے ساتھ یکساں محبت اور توجہ دیں۔ ہر بچے کی ضروریات اور احساسات کو سمجھیں۔
مناسب مواقع: ہر بچے کو مواقع فراہم کریں کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو نکھار سکے۔
تعلیم میں برابری: بچوں کی تعلیم میں بھی برابری کا خیال رکھیں۔
انفرادی توجہ: ہر بچے کی انفرادی خصوصیات اور ضروریات کو سمجھیں۔
رائے اور مشورہ: بچوں کی رائے کو اہمیت دیں۔
سزا اور انعام میں برابری: اگر کسی بچے کو سزا یا انعام دیا جائے تو اس میں بھی انصاف کو مدنظر رکھیں۔
مثالی سلوک: خود بھی انصاف کا نمونہ بنیں۔
یہ تمام نکات والدین کی ذمہ داریوں کو واضح کرتے ہیں اور یہ بتاتے ہیں کہ انصاف کا قیام کتنا ضروری ہے.
برابر تقسیمِ جائیداد کے بارے میں اسلامی تعلیمات کی روشنی
برابر تقسیمِ جائیداد کے بارے میں اسلامی تعلیمات کی روشنی
میں مزید آیات اور احادیث درج ذیل ہیں:
سورۃ النساء، آیت 7: "اور جو کچھ ان کے والدین اور قریبی رشتہ داروں نے چھوڑا ہے، اس میں مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے۔"
سورۃ النساء، آیت 11: "اللہ تمہیں وصیت کرتا ہے کہ تمہاری اولاد کے بارے میں: ایک مرد کا حصہ دو عورتوں کا ہے۔"
سورۃ النساء، آیت 12: "اور تمہارے لیے جو چیزیں چھوڑیں تمہاری بیویاں، ان کا آدھا حصہ تمہارا ہے، اگر ان کی کوئی اولاد نہ ہو۔"
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: "رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 'اللہ نے ہر وارث کا حق اس کی جائیداد میں مقرر کر دیا ہے۔'"
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: 'جائیداد کی تقسیم میں انصاف ضروری ہے۔'"
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: "جہاں تک ممکن ہو، اپنی جائیداد کو برابر تقسیم کرو، کیونکہ یہ اللہ کا حکم ہے۔"
اگر کسی وارث نے اپنا حصہ دوسرے وارث کو دے دیا:
اسلامی تعلیمات کے مطابق یہ عمل جائز ہے، بشرطیکہ یہ رضامندی سے کیا جائے۔ یہ چند نکات میں بیان کیا جا سکتا ہے:
رضامندی کی شرط: اگر وارث اپنی مرضی سے اپنا حصہ دوسرے وارث کو منتقل کرتا ہے تو یہ جائز ہے۔ اس میں کوئی زبردستی یا دھوکہ نہیں ہونا چاہیے۔
تحریری دستاویز: بہتر یہ ہے کہ اس منتقلی کی ایک تحریری دستاویز تیار کی جائے تاکہ اس کی قانونی حیثیت ہو۔
اللہ کی رضا: یہ عمل اللہ کی رضا کے لیے کیا جائے تو یہ مزید قابلِ قبول ہے، جیسا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "تم میں سے بہترین لوگ وہ ہیں جو اپنے اہل و عیال کے لیے بہترین ہوں۔"
نظامِ وراثت کی تبدیلی: اگر ایک وارث اپنا حصہ دوسرے وارث کو دے دیتا ہے تو اس کی وراثت میں تبدیلی آ جاتی ہے اور باقی ورثاء کے حصے بھی اس کی بنیاد پر متاثر ہو سکتے ہیں۔
عذاب کا خطرہ: اگر یہ منتقلی کسی ناانصافی یا غلط نیت کی بنیاد پر ہو، تو یہ اللہ کی ناراضگی کا باعث بن سکتی ہے، کیونکہ جائیداد کی تقسیم میں انصاف ضروری ہے۔
حصے کی قیمت کی ادائیگی: اگر کسی وارث نے اپنے حصے کی قیمت دوسرے وارث کو ادا کی ہے، تو یہ ایک خرید و فروخت کی صورت میں شمار ہوگی۔ اس صورت میں، پہلے وارث کا حصہ خرید لیا گیا ہے اور اب وہ اس کا مالک ہے.
شرعی احکام: اسلامی شریعت کے مطابق، اگر کسی وارث نے اپنی مرضی سے اپنا حصہ چھوڑ دیا یا دوسرے وارث کو دیا، تو یہ عمل جائز ہے بشرطیکہ یہ کسی دباؤ یا زبردستی کے بغیر کیا گیا ہو.
تقسیم کے اصول: اگر تقسیمِ ترکہ کے وقت کسی وارث نے اپنا حصہ دوسرے وارث کو دیا ہے، تو اس کا حصہ تقسیم کے وقت اس کے دوسرے وارث کے حصے میں شامل نہیں ہوگا، بلکہ وہ حصہ جس وارث نے خریدا ہے، اس کی ملکیت میں آ جائے گا.
بیٹیوں کی تربیت اور ماں باپ کی ذمہ داریاں:
کچھ گھروں میں ماں باپ بیٹیوں کو یہ تربیت دیتے ہیں کہ سخت سے سخت حالات میں گزارہ کرکے اپنے پاؤں پر کھڑی ہوں۔ ان بیٹیوں کو یہ بتایا جاتا ہے کہ ہر تکلیف اپنے پاوں پر گزرنا ہے۔ اور وہ بیچاری ہر طرح کے مالی بحران سے گزر کر اپنے آپ کو مضبوط کرتی ہیں۔ پھر ان سے یہ تقاضا کیا جاتا ہے کہ باپ کی جائیداد اپنے بھائیوں کے لیے چھوڑ دیں۔ یہاں والدین اپنی اولاد کے ساتھ ایک غلطی کرتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ اپنی بیٹیوں کے حق کو معاف کر دیتی ہیں۔ یہ ایک گناہ ہے جو والدین اپنی اولاد سے کرتے ہیں اور اللہ کے قہر کو آواز دیتے ہیں۔ پھر اللہ وہی بیٹیوں کا مال جن میں تقسیم ہوتا ہے، انہیں اپنے عذاب میں لاتا ہے اور ان کو کسی نہ کسی ایسی غم میں ڈال دیتا ہے جو نہ تو انہیں جینے دیتا ہے اور نہ ہی مرنے دیتا ہے۔ اور وہ ساری عمر اسی سوچ میں گزارتے ہیں کہ ان سے کیا غلطی ہوئی۔
اولاد میں انصاف کرنے کا طریقہ اور اس کی اہمیت:
جب ماں باپ اولاد میں فرق کرتے ہیں تو اس فرق کو اللہ تعالیٰ وہاں اپنا توازن برقرار رکھتا ہے۔ اسلام کی بنیاد برابری کے اصول پر ہے۔ تو جب ماں باپ اللہ کے حکم کی نافرمانی کرتے ہیں اور اپنے جذبات و احساسات کو ترجیح دیتے ہیں، وہاں وہ اللہ کے احکامات کی نافرمانی کرکے کفر کے راستے پر چل پڑتے ہیں۔ اور اللہ انہیں اس وقت پوری طرح آزما دیتا ہے۔ اگر وہ اللہ کی نافرمانی کرتے ہیں تو اللہ پھر ان کے غلط فیصلوں کو درست کرتا ہے اور اپنا فیصلہ سناتا ہے، جو کہ بہت تکلیف دہ ہوتا ہے۔
اپنے ارد گرد نظر ڈالیں، آپ کو بہت سے گھروں میں نظر آئے گا کہ جہاں والدین نے شریعت کے خلاف جا کر اولاد میں فرق کیا اور ایک اولاد کو زیادہ اور ایک کو کم دیا۔ وہاں اللہ نے اس اولاد کو آزمائش اور تکلیف میں ڈال دیا جس کو والدین نے زیادہ عطا کیا۔ اور یہی میرے رب کا انصاف ہے اپنے انسانوں کے لیے۔
اپنے ارد گرد جائزہ لیجیے، جن بہن بھائیوں نے والدین کی اس ناانصافی میں ان کا ساتھ دیا، اللہ نے ان کی اولاد کو سخت تکلیف اور درد میں مبتلا کر دیا، کیونکہ ایک انسان کے لیے سب سے بڑا درد اس کی اولاد کا دکھ ہوتا ہے۔ اور یہی میرے رب کی سزا ہے۔ اس لیے کوشش کریں اپنے اعمال کو درست کریں اور اپنے مال کو صاف کریں، حق دار کو اس کا حق دیں، اپنی اولاد میں رب کے حکم پر انصاف کریں، اور اپنے بہن بھائیوں کو ان کا جائز حق دیں۔
ایمان کی مضبوطی یہ ہے کہ ماں باپ اس بات کو دل سے قبول کر لیں کہ ان کی اولاد اللہ کی طرف سے آزمائش ہے۔ اور ہر اولاد کا نصیب اللہ کے حکم سے ہی ہے۔ تو اگر کوئی اولاد کمزور ہے تو وہ بھی اللہ کے حکم سے ہے، اور اگر امیر ہے تو وہ بھی رب کے فیصلے ہیں، تاکہ وہ ماں باپ کو جانچ سکیں کہ ان کا اپنے رب پر ایمان کتنا مضبوط ہے۔ اگر والدین اولاد میں ناانصافی شروع کر دیں اور ایک کا حصہ دوسرے کی جھولی میں ڈال دیں تو یہ اللہ کے قہر کو آواز دیتا ہے اور اس کو بتاتا ہے کہ تیرا میرے کمزور اولاد کے لیے فیصلہ ٹھیک نہیں، اس کو میں درست کروں گا اور اپنی اولاد میں انصاف کروں گا۔
اور جو والدین اولاد کو غلط راستے پر چلنے کی تلقین کرتے ہیں یا اللہ کے حکم کی نافرمانی کرنے کی دھمکی دیتے ہیں، وہ کفر اور شرک کے پردے میں ہیں۔ کیونکہ وہ اللہ کے احکام کو اپنی مرضی سے بدل دیتے ہیں اور اولاد کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ وہ والدین کی نافرمانی کر رہے ہیں اور انہیں بڑا عذاب ہوگا۔ اس وجہ سے اولاد مجبور ہو جاتی ہے کہ ان کی ہر ناجائز بات مان لے۔ ہر بالغ اولاد کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ اللہ کی تعلیمات کو سمجھیں اور والدین کو شریعت کے بارے میں بتائیں تاکہ وہ سیدھے راستے پر چل سکیں۔
Nadia Nizam
Comments
Post a Comment